ممبئی،12/جنوری (آئی این ایس انڈیا) کورونا کی وبا کے دوران برڈ فلو نے ملک کے بیشتر حصوں میں دستک دی ہے۔ مہاراشٹر میں بھی برڈ فلو پرانتظامیہ کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں شیو سینا کے اخبار ’سامنا‘میں تشویش کا اظہار کیا گیا، اور کہا گیا کہ یہاں انسانوں کی ناراضگی کو کوئی سننے کو تیار نہیں، وہاں پرندوں اور مرغیوں کی تکلیف کوکون سمجھے گا؟کورونا بحران میں انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اب ’برڈ فلو‘ کے بحران کی وجہ سے پرندے اور مرغیاں مرنا شروع ہوگئی ہیں۔
اس کی وجہ سے کسان اور مرغیوں کو پالنے والے پولٹری فارم کا کاروبار خطرے میں پڑگیاہے۔ مرغی کی فروخت میں 40 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کا معاشی اثر معاشرے کے ایک بڑے طبقے پر پڑرہا ہے۔کورونا ویکسین کے جشن کے دوران یہ نیا بحران سامنے آیا ہے۔ مرغی اور پرندے اس برڈ فلو کے بحران کی وجہ سے مر رہے ہیں، انسانوں کو اس سے خوش نہیں ہونا چاہئے۔ بارش کی وجہ سے انگور، کاجو اور دیگر پھلوں کی پیداوار پہلے ہی بحران کا شکار ہے،اسی دوران مرغیوں کو برڈ فلو کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اس سے چھوٹے اور بڑے تاجروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جو مرغی اور انڈوں کا کاروبار کرتے ہیں۔
کسان نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اس دوران برڈ فلو کا ایک نیا بحران آن پڑا ہے۔ حکومت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کی اس تحریک کے پیچھے پاکستانی، خالستانی، چینی، نکسل وادی اور ماؤ نواز کا ہاتھ ہے۔لیکن بی جے پی کے ترجمان نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ یہ جو مرغیاں اور پرندے مررہے ہیں اس پراسرار قتل عام میں کس کا ہاتھ ہے کیا اس کے پیچھے بھی خالصتانی، پاکستانی اور نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔